ابنا: نبیل شعث نےاس خبرکااعلان کرتےہوئےکہاکہ کم سےکم مزیدبیس ممالک بھی ستمبرکےمہینےتک اس کی باقاعدہ حمایت کی یقین دہانی کراچکےہيں۔یورپی گروہ کےسربراہ عرفات ماضي نےبھی غزہ کےعوام کی حمایت کی خبردی ہےانھوں نےغزہ کامحاصرہ توڑنےکی ضرورت پرتاکیدکرتےہوئےکہاکہ غزہ کامحاصرہ توڑنےکےلئےہونےوالی حالیہ کوششوں میں مختلف ممالک کی وسیع پیمانےپرمشارکت کےپیش نظریہ کہاجاسکتاہےکہ دنیاميں فلسطینی عوام کےساتھ یکجہتی بڑھتی جارہی ہے۔درحقیقت سن دوہزارگیارہ کو صہیونی ریاست کےخلاف احتجاج کی لہرکانام دیاجاسکتاہے۔سن دوہزارگیارہ میں دنیافلسطینی عوام کی حمایت میں اٹھنےوالی عالمی تحریکوں کودکھ رہی ہے۔خودمختارفلسطینی مملکت کی تشکیل کےلئے پوری دنیا سےفلسطینی عوام کی حمایت،عالمی سطح پر صہیونی ریاست کےتنہاہونےکی عکاس ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ صہیونی ریاست کی جانب سےغزہ پٹی میں صہیونی ریاست کی پیداکردہ افسوسناک صورت حال کےسلسلےمیں وسیع پیمانےپرعالمی تشویش کےساتھ ہی،غزہ پٹی کےعوام کی امدادرسانی، غزہ کامحاصرہ توڑنے اورفلسطینی عوام کےدکھ درد کےخاتمےکےلئےاقدامات تیزہونےکی بھی خبریں مل رہی ہیں۔ مذکورہ مسائل سےپتہ چلتاہےکہ صہیونی ریاست کےخلاف عالمی تحریک وسیع سےوسیع ترہوتی جارہی ہے۔غزہ کےعوام کی حمایت میں مختلف امدادی کاروانوں کاچل نکلنا، صہیونی ریاست سےنفرت وبیزاری اورفلسطینی عوام سےہمدردی ویکجہتی کااظہارہے۔عالمی رائےعامہ کی جانب سےصہیونی جرائم کی مذمت اورفلسطینیوں کی حمایت نےصہیونی حکام کوشدیدتشویش میں مبتلاکردیاہے۔اس سلسلےمیں ابھی کچہ دنوں پہلےصہیونی وزيرجنگ ایھود باراک نےماہ ستمبر،قریب آنےکےپیش نظراس حکومت کےخلاف سفارتی سونامی آنےکی خبردی تھی۔ صہیونی ریاست کی قومی سلامتی کےتحقیقاتی مرکزمیں خطاب کرتےہوئےایھودباراک نےتاکیدکی تھی کہ عالمی سیاسی دباؤ کےنتیجےمیں آئندہ مہینےمیں اسرائیل کوعالمی سیاسی سونامی کاسامناکرناپڑےگا۔ غاصب صہیونی ریاست کےخلاف سیاسی سونامی سےصہیونی حکام کی مراد، فلسطینی عوام کےحقوق کی وسیع پیمانے پرہونےوالی عالمی حمایت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز